اسلام آباد: ایک اہم قانونی موڑ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کی سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت پاکستان آرمی ایکٹ (PAA) کی مخصوص دفعات کو منسوخ کرے، جو منصفانہ ٹرائل کے حق کو یقینی بناتا ہے۔ منگل کو سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ نے ارزم جنید کی نمائندگی کرتے ہوئے PAA کی سیکشن 2(1)(d)(i) اور (ii) کو ہٹانے کی درخواست کی۔ جنید کو 9 مئی کے فسادات میں شرکت پر فوجی عدالت نے چھ سال کی سزا سنائی تھی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ اکتوبر 2023 کے اس سابقہ فیصلے کے خلاف اپیلیں سن رہا ہے جس نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق فوجی عدالتوں میں سول مقدمات کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اپیلیں استدلال کرتی ہیں کہ فوجی مقدمات آرٹیکل 10A میں درج منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ، جو پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں، نے اپنی دلائل مکمل کر لیے، جبکہ پی ٹی آئی کے بانی صدر عمران خان کی نمائندگی کرنے والے عزیر بھنڈاری آج اپنی پیشکش شروع کریں گے۔
راجہ نے زور دیا کہ آرٹیکل 10A صرف ایک فلسفیانہ تصور نہیں بلکہ ایک بنیادی آئینی حق ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ فوجی افسران کی سربراہی میں فوجی عدالتیں منصفانہ ٹرائل کے لیے درکار آزادی کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ انہوں نے اکتوبر 2023 کے فیصلے میں جسٹس عائشہ اے ملک کی تفصیلی رائے کا حوالہ دیا، جس میں زور دیا گیا تھا کہ بنیادی حقوق کو سہولت کی خاطر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
وکیل نے فوجی مقدمات کے حوالے سے جسٹس منیب اختر کی بعض تشریحات پر تشویش کا اظہار کیا، اور مشورہ دیا کہ ان تشریحات کے سول مقدمات پر نقصان دہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جسٹس اختر نے پہلے نوٹ کیا تھا کہ آرٹیکل 175 کے تحت فوجی عدالتوں کو چیلنج کرنا بے اثر ہے، کیونکہ یہ عدالتیں تاریخی طور پر آرٹیکل 175(3) کے آئینی فریم ورک سے باہر ہیں۔
راجہ نے بنچ پر زور دیا کہ وہ آئین کی صحیح تشریح کرے، بغیر ماضی کے فیصلوں سے متاثر ہوئے جو تاریخی یا اخلاقی استثناء کی اجازت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کو خبردار کیا کہ جج ذاتی یا اخلاقی بنیادوں پر فیصلہ نہ کریں، اور اس حوالے سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اسی طرح کے رجحانات پر تبصروں کا حوالہ دیا۔
وکیل نے بین الاقوامی معیارات کو اجاگر کیا، خاص طور پر 1997 کے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے ایک کیس کا حوالہ دیا، جس میں ایک برطانوی فوجی کے ٹرائل کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، تاکہ شہریوں کے فوجی ٹرائل کے خلاف اپنی دلیل کو تقویت دی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ میں فوجی عدالتیں فوجی افسران کے ذریعے نہیں چلائی جاتیں، جو منصفانہ ٹرائل کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق ہے۔ مزید برآں، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے پاکستان میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے شہریوں کے فوجی ٹرائل پر بین الاقوامی موقف کے بارے میں پوچھا، جس پر راجہ نے جواب دیا کہ برطانیہ میں فوجی مقدمات میں ججوں کی آزادی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ وکیل نے یہ کہہ کر اپنی دلیل ختم کی کہ آرٹیکل 10A کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے آئین میں شامل کیا گیا تھا، جو آزاد عدالتی طریقہ کار کی حمایت کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کا اس معاملے پر فیصلہ بڑی توجہ سے دیکھا جائے گا، کیونکہ اس کے آئینی حقوق کی تشریح اور پاکستان میں فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار پر اہم اثرات مرتب ہوں گے۔
