امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ غزہ کا “انتظام” کرے گا اور اس نے اس علاقے میں امریکی فوج بھیجنے سے انکار نہیں کیا۔ اس کے جواب میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ٹرمپ کی تجویز کی حمایت کا اظہار کیا، ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کے فوجی مقاصد کو حاصل کرنے میں مدد کریں گے۔ سعودی عرب نے فلسطینی ریاست کے لیے اپنی “مضبوط” حمایت کا اعادہ کیا، اور کہا کہ وہ کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو فلسطینیوں کے حقوق کی ضمانت نہ دے۔ عرب رہنماؤں نے ان تجاویز پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کے منصوبے کے تحت، سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے اپنے تمام ملازمین کو علیحدگی کی پیشکش کی ہے، جس کے تحت وہ تقریباً آٹھ ماہ کی تنخواہ اور مراعات کے عوض اپنی ملازمت چھوڑ سکتے ہیں۔ دوسری طرف، ریاستہائے متحدہ کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے عالمی ملازمین کو جمعہ کو انتظامی چھٹی پر بھیج دیا گیا اور انہیں امریکہ واپس آنے کا حکم دیا گیا۔ بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں غزہ میں ٹرمپ کے منصوبے کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔
ایک پریس کانفرنس میں، ٹرمپ نے کہا: “امریکہ غزہ کا کنٹرول سنبھال لے گا اور اسے ایک نئی ‘ریویرا’ میں تبدیل کر دے گا۔” انہوں نے اس علاقے میں غیر پھٹنے والے بموں کو ختم کرنے اور ہدف کو صاف کرنے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جبکہ یہ کہا کہ فلسطینیوں کو ایک “خوبصورت” زمین میں دوبارہ آباد کیا جائے گا۔ حماس کے ایک عہدیدار نے اس تجویز کو خطے میں “شدت اور افراتفری کا نسخہ” قرار دیا، اور کہا کہ غزہ کے عوام ان منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مزید برآں، عرب ممالک نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی تجویز کی شدید مخالفت کی، جسے مخالفین نسلی تطہیر سے تشبیہ دیتے ہیں۔
دوسری طرف، دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ٹرمپ کی تجویز پر شکوک و شبہات اور تشویش کا اظہار کیا ہے، بعض ڈیموکریٹک سینیٹرز نے اسے “پاگل” اور “خطرناک” قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری ٹرمپ کے متنازعہ تجویز پر شدید تنقید اور شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے، جبکہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ تجاویز عملی طور پر کیسے نافذ کی جائیں گی۔
