سرحدی کشیدگی میں واضح اضافہ ہفتہ کو ہوا۔ پاکستان نے افغانستان کی سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں درجنوں عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اور خاص طور پر ان عناصر کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث تھے۔
ان حملوں کی وجوہات اسلام آباد نے واضح طور پر بتائی ہیں۔ پاکستانی وزارت اطلاعات نے کہا کہ یہ کارروائی حالیہ دہشت گردانہ حملوں کا جواب تھی۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ سرحد پار سے عسکریت پسند گروپ پاکستان میں تشدد کی منصوبہ بندی اور حمایت کر رہے تھے۔ فوج نے بتایا کہ اس کارروائی میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔
افغانستان کا ردعمل فوری تھا۔ افغان حکام نے اس فوجی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔ دوسری طرف، پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی صرف سرحدی علاقوں میں پناہ لینے والے دہشت گرد عناصر کے خلاف تھی۔
یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے تناظر میں پیش آیا ہے۔ 2021 میں کابل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ اسلام آباد نے مسلسل زور دیا ہے کہ علاقائی امن و استحکام کے لیے سرحد پار سے عسکریت پسند گروپوں کے خلاف موثر کارروائی ضروری ہے۔
سرحد پر صورتحال اب انتہائی کشیدہ ہے۔ کارروائی کے بعد، سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ پاکستانی حکام نے زور دیا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری کے تحفظ اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔
بین الاقوامی سطح پر، پاکستانی حکومت نے عالمی برادری سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار علاقائی امن کے لیے سرحدی تعاون میں اضافہ ضروری ہے۔
