پاکستان نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس بیان کی سخت مذمت کی ہے جس میں انہوں نے تجویز دی کہ فلسطینیوں کو سعودی عرب میں ایک ریاست قائم کرنی چاہیے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بیان کو “غیر ذمہ دارانہ، اشتعال انگیز اور بے پروا” قرار دیا۔
تفصیلات کے مطابق، نیتن یاہو نے ایک انٹرویو کے دوران یہ تبصرہ کیا جب ایک صحافی نے غلطی سے ‘سعودی ریاست’ کا ذکر کیا، جسے انہوں نے بعد میں درست کیا۔ آج جاری کردہ ایک بیان میں، پاکستانی وزارت خارجہ نے نیتن یاہو کے بیانات پر تنقید کی۔ قریشی نے کہا: “اسرائیلی بیان نہ صرف ایک سنگین توہین ہے بلکہ یہ فلسطینی عوام کے اپنی تاریخی سرزمین پر خود ارادیت اور آزاد ریاست قائم کرنے کے حق کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔”
قریشی نے یہ بھی زور دیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی رکھتا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اس کی مضبوط حمایت کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کو ان کی آبائی سرزمین سے منتقل کرنے کی کوئی بھی تجویز بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انصاف کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
وزیر خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اشتعال انگیز بیان کی مذمت کرے اور اسرائیل کو اس کے ان اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرائے جو امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ قریشی نے واضح کیا کہ انہوں نے ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو کے ساتھ غزہ کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی تھی، اور دونوں وزراء نے فلسطینی مسئلے پر وزارتی اجلاس میں غیر معمولی اسلامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
سعودی عرب نے بھی نیتن یاہو کے بیان کی شدید مذمت کی، جبکہ مصر اور اردن نے اسرائیلی تجاویز کی مخالفت کی۔ ان عرب ممالک نے نیتن یاہو پر سعودی خودمختاری کی صریح بے عزتی کرنے پر براہ راست تنقید کی۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہزاروں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے اس مسئلے پر بین الاقوامی ردعمل شدید ہو گیا ہے۔
دیگر خبروں میں، آئی ایم ایف کی ایک ٹیم پاکستان جائے گی، لوئیسا کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اور ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یوکرین تنازع میں روسی حملوں کو ختم کرنے کے لیے ولادیمیر پوٹن کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی غیر یقینی ہے۔
