جمعہ کے روز بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں کوئلہ کان کنوں کو لے جانے والی ایک گاڑی میں تباہ کن دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم دس افراد ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر حضرت ولی کاکڑ نے تصدیق کی کہ دھماکہ ایک دستی بم سے ہوا، جو پی ایم ڈی سی 94 کوئلہ کان کے علاقے میں پھٹا۔
متاثرین، جن میں زخمی بھی شامل ہیں، کو فوری طور پر شاہراگ کے بنیادی صحت مرکز منتقل کر دیا گیا تاکہ انہیں طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے، اور بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رندھ نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی نتائج بتاتے ہیں کہ دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے رکھا گیا تھا۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور انسانی جانوں کے اس نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ زخمی کان کنوں کو بہترین طبی امداد ملے اور دہشت گردی کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جو بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ کسی رحم کے مستحق نہیں، وزیر اعلیٰ نے امن میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت بلوچستان میں جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے متوفی کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ کے الفاظ کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے گھناؤنے کاموں کے مرتکب کسی رحم کے مستحق نہیں۔
یہ کہانی ابھی ترقی کر رہی ہے، اور جیسے جیسے نئی معلومات دستیاب ہوں گی، تازہ ترین معلومات فراہم کی جائیں گی۔ ابتدائی میڈیا رپورٹس بعض اوقات غلط ہو سکتی ہیں، اور قابل اعتماد ذرائع بشمول مستند حکام اور میدان میں موجود صحافیوں کی بنیاد پر درست اور بروقت معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
