صدر ایمانوئل میکرون نے حال ہی میں فرانس میں آنے والے سالوں میں ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 109 ارب یورو کی بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اس سرمایہ کاری کا موازنہ امریکی اسٹریٹیجک پروجیکٹ سے کیا، جس کا تخمینہ 500 ارب ڈالر ہے۔ یہ اعلان پیرس میں مصنوعی ذہانت پر تیسرے عالمی سربراہی اجلاس کے انعقاد کے ساتھ موافق ہے، جس میں اہم بین الاقوامی سرمایہ کار شامل ہیں۔ میکرون اس موقع پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتوں کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
اس سربراہی اجلاس کی پہلی بڑی سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات کی طرف سے آئی ہے، جس نے فرانس میں ایک بڑا ڈیٹا سینٹر بنانے کے لیے 30 سے 50 ارب یورو کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مرکز جدید ٹیکنالوجیز کے لیے وقف ہوگا اور اس کی گنجائش 1 گیگا واٹ ہوگی، جو ایک جوہری ری ایکٹر کے برابر ہے۔ ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ضروری ہیں کیونکہ یہ بڑے ماڈلز کی تربیت اور کام کو ممکن بناتے ہیں، جس کے لیے بجلی اور پانی کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے، جو قوموں کی طاقت اور خود مختاری کے اہم عناصر ہیں۔
فرانس کے پاس اپنے جوہری پارکوں کی بدولت ان مراکز کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے۔ فرانسیسی حکومت EDF اور RTE کے ساتھ مل کر نجی سرمایہ کاروں کو 35 سائٹس فراہم کر رہی ہے تاکہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں آسانی ہو۔ کینیڈا کی کمپنی Brookfield نے بھی فرانس میں 20 ارب یورو کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس میں سے 15 ارب یورو کمبری میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے مختص ہیں، جو فرانس کی موجودہ انجینئرنگ کی مہارتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔
مزید برآں، فرانسیسی کمپنی Iliad اپنے یورپی ڈیٹا سینٹرز کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے 3 ارب یورو کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ ایک اسٹارٹ اپ جس کا نام Mistral ہے، نے اپنا پہلا ڈیٹا سینٹر بنانے کے لیے کئی ارب یورو کے سرمایہ کاری منصوبے پیش کیے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری فرانس کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں، اور سربراہی اجلاس کے دوران مزید اعلانات متوقع ہیں۔
میکرون کا 109 ارب یورو کی اس سرمایہ کاری کا اعلان ملک کے تکنیکی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ اقدام ایک متحرک بین الاقوامی تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں آئی ایم ایف کی ٹیم کا پاکستان کا دورہ، پاکستان کی طرف سے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے بیان کی مذمت، ایسن میں لوئیس کے قتل کی تحقیقات سے متعلق ایک بڑی پولیس کارروائی، اور ڈونلڈ ٹرمپ کا یوکرین تنازع میں روسی حملوں کو ختم کرنے کے لیے ولادیمیر پوٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بیان شامل ہیں۔
