مقامی سونے کی مارکیٹ میں جمعہ کے روز نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو عالمی منڈیوں میں دیکھی جانے والی بحالی کے برعکس ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق، 24 قیراط سونے کی قیمت میں 21,400 روپے کی کمی ہوئی، جو 507,762 روپے فی تولہ پر طے ہوئی۔ 10 گرام کی قیمت میں 18,347 روپے کی کمی ہوئی، جو 435,324 روپے رہی۔
**عالمی منڈیاں دلچسپی میں اضافے سے مستفید ہو رہی ہیں**
ایک واضح فرق کے ساتھ، عالمی سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو پچھلے سیشن میں بڑے پیمانے پر فروخت کے بعد بحال ہوا۔ اسپاٹ سونے میں 2.3% اضافہ ہوا جو 4,879.06 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔ تجزیہ کار اس اضافے کو محفوظ سرمایہ کاری کے اثاثوں کی مانگ سے منسوب کرتے ہیں، عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں کمی اور امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں۔
« میں واقعی کچھ محفوظ سرمایہ کاری کو دیکھ رہا ہوں، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ گزشتہ جمعہ کی بڑی فروخت کے بعد کچھ احتیاط باقی ہے… ایران-امریکہ کشیدگی کا خدشہ اب بھی موجود ہے، » OANDA کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ نے کہا۔
**قیمتی دھاتوں کو متاثر کرنے والے کلیدی عوامل**
کئی عناصر نے اس پیچیدہ مارکیٹ کی حرکیات میں حصہ ڈالا:
* **جغرافیائی سیاسی کشیدگی**: امریکہ اور ایران کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق اعلیٰ خطرے والے مذاکرات نے مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے۔
* **مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ**: CME گروپ نے دو ہفتوں میں تیسری بار سونے اور چاندی کے فیوچر کنٹریکٹس کے لیے مارجن کی ضروریات میں اضافہ کیا، تاکہ بڑھتے ہوئے اتار چڑھاؤ سے متعلق خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
* **مالی دباؤ**: امریکی ڈالر دو ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب ٹھہرا رہا، جس سے قیمتی دھاتوں پر دباؤ پڑا۔
* **علاقائی رجحانات**: ہندوستان میں سونے پر پریمیم حالیہ بلندیوں کے مقابلے میں نصف سے بھی زیادہ کم ہو گئے ہیں، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ خریداروں کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے۔
**چاندی اور دیگر قیمتی دھاتیں**
مقامی چاندی کی قیمت میں بھی کمی ہوئی، چاندی کے سکے کی قیمت فی تولہ 1,430 روپے کم ہو کر 7,825 روپے پر آ گئی۔ بین الاقوامی سطح پر، اسپاٹ چاندی میں ایک اتار چڑھاؤ والے سیشن کے بعد 4.2% اضافہ ہوا جو 74.21 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔ دیگر دھاتوں نے مخلوط کارکردگی دکھائی: اسپاٹ پلاٹینم میں 0.2% اضافہ ہوا اور پیلیڈیم میں 2.9% اضافہ ہوا، حالانکہ دونوں نے ہفتے میں کمی کے ساتھ اختتام کیا۔
مقامی اور بین الاقوامی قیمتوں کے درمیان یہ فرق معاشی دباؤ اور منفرد مالی عوامل کو اجاگر کرتا ہے جو پاکستانی مارکیٹ کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ عالمی سرمایہ کار جغرافیائی سیاسی اور مالیاتی غیر یقینی صورتحال کے دور میں سونے کی طرف رخ کر رہے ہیں۔
